ٹرمپ کے قتل کی کوشش کا الزام: واشنگٹن میں حملہ آور کی چار سیکنڈ میں سکیورٹی حصار عبور کرنے کی نئی ڈرامائی فوٹیج جاری

ٹرمپ عشائیہ حملہ
    • مصنف, میکس ماٹزا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکی حکام نے ایک نئی فوٹیج جاری کی ہے جس میں واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے کے دوران ایک مسلح شخص نے چار سیکنڈ میں اچانک ایک دروازے سے نکل کر سکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزرنے کی کوشش کی جس سے کچھ ہی فاصلے پر صدر ٹرمپ بھی عشائیے میں موجود تھے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سکیورٹی ایجنٹ دوڑتے ہوئے مسلح شخص کی سمت میں فائر کرتا ہے۔ تاہم اس ویڈیو میں وہ حصہ موجود نہیں جب تفتیش کاروں کے مطابق مبینہ حملہ آور گر جاتا ہے اور پھر اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

31 سالہ کول ٹامس ایلن پر وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔ اب تک ملزم کی جانب سے اس الزام پر جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکہ محکمہ انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس فوٹیج میں ایلن کو ہوٹل میں مذکورہ واقعے سے ایک دن قبل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

ایلن پر الزام ہے کہ وہ ایک سیمی آٹومیٹک ہینڈ گن، ایک پمپ ایکشن شاٹ گن اور تین چھریوں سے لیس تھے جب انھوں نے ہوٹل میں جاری وائٹ ہاوس پریس کی تقریب کے دوران ایک منزل اوپر موجود راہداری میں سکیورٹی حصار کو عبور کرنے کی کوشش کی۔

اس دوران گولیوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر حکام کو تقریب سے نکالنے کے مناظر بھی دیکھے گئے۔

واشنگٹن ڈی سی کی اٹارنی جینی پیرو کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریبا ایک درجن کے قریب سکیورٹی ایجنٹ ہوٹل کی ایک راہداری میں چیک پوائنٹ پر موجود ہیں۔

اس دوران لمبے کوٹ میں ملبوس شخص کو راہداری میں داخل ہونے کے بعد ایک دروازے میں گم ہوتے دیکھا جا سکتا ہے لیکن چند ہی لمحوں کے بعد وہی شخص اچانک نمودار ہوتا ہے اور تیزی سے بھاگتا ہوا سکیورٹی حصار کو عبور کر جاتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سکیورٹی افسر مشتبہ شخص کی جانب گولی چلانے کی کوشش کرتا ہے تاہم استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم ان کی گولی سے بچ گیا تھا۔

سیکرٹ سروس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملزم نے بھی اس افسر پر گولی چلائی لیکن بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے وہ زیادہ زخمی نہیں ہوئے۔

ماہرین اس بات کی تفتیش بھی کر رہے ہیں کہ کیا سیکرٹ سروس کا یہ اہلکار ملزم کی گولی سے زخمی ہوا تھا یا پھر موقع پر موجود کسی اور اہلکار کی جانب سے چلائی جانے والی گولی سے۔

بدھ کو استغاثہ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات میں اس بات کا ذکر موجود نہیں کہ کسی بھی افسر کو گولی لگی تھی۔

ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ملزم جب چیک پوائنٹ سے دوڑا تو ایک سیکرٹ سروس افسر نے دیکھا کہ اس نے بال روم، جہاں تقریب میں ٹرمپ موجود تھے، کی جانب جانے والی سیڑھیوں کی سمت میں شاٹ گن سے فائر کیا۔

ایلن کے وکلا نے اس دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ ان کے موکل نے گولی چلائی تھی۔

جمعرات کے دن سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ملزم نے نہایت قریب سے سیکرٹ سروس کے ایجنٹ پر گولی چلائی تھی۔ شان کران نے کہا تھا کہ ’میں نے جو شواہد دیکھے ہیں، ان کے مطابق ملزم نے ہمارے افسر پر بہت قریب سے فائر کیا تھا۔‘

’ہمارے افسر نے جوابی فائر کیا جبکہ اس کو چھاتی میں گولی لگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ملزم ایک بکسے سے ٹکرا کر زمین پر گر گیا اور یہی وہ لمحہ تھا جب ہمارےافسران اور ایجنٹوں نے اس پر قابو پا لیا۔‘

ایلن پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انھیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔